بدھ، 30 نومبر، 2011

یہ روشن فضایں





یہ صبح کے حسین دھندلکے
یہ روشن فضایں
یہ ٹھنڈی ٹھنڈی پھروائی
یہ چہچہاتے پرندے
یہ دنیا کی ہلچل
ہر طرف ایک نرم نرم شور
کہ رہا ہے ابھی زندگی ہے
ابھی قایم بندگی ہے
ابھی احساس تازہ ہیں
ارادے ابھی جوان ہیں
امید کا جہاں ہے
ہر سو وہی نہاں ہے
ہر پل ابتدا ہے
ہر پل انتہا ہے
سویرے سویرے ہر ایک کی ایک کہانی شروع ہوتی ہے
زندگی کی مانگ سے زیادہ آدمی کی مانگیں بڑھتی جاتی ہیں
حال ماضی مستقبل ساری جنگیں ایکساتھ کیسے جیتی جایینگی
کہیں تو ٹھہرنا ہوگا
یہ سمجھنا ہوگا
آخر یہ  
دوڑ کس کی ہے
کس کے لئے ہے
آخر کیوں..آخر کیوں...آخر کیوں...
یہ سوال شاید اپنی جانب اس 
دوڑ کو متوجہ کرلے
ذرا روک جا ہے زندگی
ایک موقع انہیں بھی ملے
اپنے سوالوں کے جواب پانے کا
 اپنے باطن سے  مل جانے کا
کیا پتا کوئی دل اپنا سراغ پالے
خود کو نہ کرے خواہشوں کے حوالے
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں