منگل، 15 نومبر، 2011

دوست کی صدا




آ چل  پیاری صبح  میری
تجھے میری خلوت میں لے چلوں
تیرے سنگ سنگ آج مجھ سے ملوں
میں جان لوں میری صبح  
گزرتی ہے کس حال میں
میری نظر گر دیکھنا چاہے تجھے
اس سے پیشتر دیکھ  لے مجھے
دیکھ میں  گم ہوں ابھی تک
کل کے بھیانک خواب میں
میں نے  دیکھا نہیں  
تو نے کیا لکھا ہے آج کے  باب میں
چھیڑ جائے حسسوں کو
 بھیج دے ایسی ہوا
یا سنا دے پھر مجھے
میرے اسی دوست کی صدا
جسکی ایک نظر
بن جاتی ہے دعا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں