قدرت کے کھیل انوکھے ہیں
جب انسان اپنی فطرت سے بغاوت کرنے لگتا ہے
تب اسکی فطرت خود اسکے روبرو ہوجاتی ہے
اور اسکی فطرت اس بغاوت کی زد سے نکل آتی ہے
کے یہ تو تیری فطرت نہیں
اپنی اصل سے ملاقات ہمیشہ سود مند ہوتی ہے
ظاہر کی گردش سے باطن کو کوئی گزند نہیں پہنچ سکتی
کے باطن میں بسیرا اسکا ہے
باطن پر پہرا اسکا ہے
فطرت کا وطیرہ اسکا ہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں