یہ شبنمی صبحیں، یہ سرد ہوا کے جھونکے
کون نہ کھو جائے ان میں دیوانہ ہوکے
صبح کی پہلی چہک اسی کی ہوتی ہے
جسکی محبّت خالق سے شدید ہوتی ہے
جو صرف اس کی یاد میں رین بسیرا کرتا ہے
جو صرف اسی کی خاطر جیتا مرتا ہے
محبّت کی صرف ایک قسم ہی ہوتی ہے
چاہنے والے کی بس ایک قسم ہی ہوتی ہے
یہ وجود تیرے دم سے ہے
یہ دنیا تیرے کرم سے ہے
یہ دھڑکن ہے تیری حمد
یہ سانسیں تیرا کلمہ ہیں
یہ جسم تیرا مقصد ہے
یہ روح تیرا آئینہ
اس دنیا کی ہر شی آنی جانی ہے
یہ جسم اسکا ہر عنصر فانی ہے
گر یہ تیرا ہوجاے تو نشانی ہے
ورنہ یہ بیکار سا ضایع پانی ہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں