جمعہ، 18 نومبر، 2011

یہ موسم



یہ نئی صبح پھر کوئی پیغام نیا لائی ہے
ہمارے انسان ہونے کا مطلب سمجھانے آئ ہے
یہ موسم دیکھ کیا کہتے ہیں
تبدیلی عمل رہے بہبودی کا
تبدیلی سب کی فلاح کی خاطر آے
تبدیلی انسان کو یہی سمجھاے
ہر موسم کا حاصل بہتر ہے
یہ موسم انسان کا بہتر کل ہے
گر یہ موسم نہ ہوتے
ہم پے بہاریں کیسے آتیں
ہم خزاں  کا مطلب سمجھ نہ پاتے
ہم سردی سے گھبرا کر مر جاتے
ہم   
 پتجھڑسے لڑ جاتے
گرما میں کیسے گرماتے
غرض موسم انسان کا درس اول ہیں
آؤ ہم موسموں میں  گھل جایں
موسموں کی طرح سب کو ہم مل جایں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں