آه! یہ صبح ایک سوال بن کر آئ ہے
ایک اہم نکتے کی طرف اسنے انگلی اٹھائی ہے
بے زبانی نے سننا سکھایا تھا
اب زبان ملی ہے تو کہنے پے آئ ہے
وہ پاس ادب کا کہاں گیا
وہ لحاظ دلوں کا کیا ہوا
اب یہ سنگ کہاں سے لائی ہے
نہیں نہیں نہ ہوش میں آ اے دیوانے
یہ دنیا تیرے لئے پرائ ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں