بدھ، 23 نومبر، 2011

ایک التجا ہے میری




میں  اپنی راتوں کو تیری صبح کردونگی
میں  اپنی آنکھوں میں  تیرے اجالے بھرلونگی
میں تیری خاموشی کو گوارہ کرلونگی  
میں اپنی  ہرشکایت سے کنارہ کرلونگی
بس ایک التجا ہے میری
ہر پل رہوں ہمنشیں تیری
آٹھوں پہر رہوں تیرے پہرے میں
تیری صورت نظر آے میرے چہرے میں
میری  خواہش پر گر تو مسکرا دیگا
میرے سنگ سارا عالم مسکرا  دیگا 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں