پیر، 28 نومبر، 2011

تیری حقیقت



 
یہ سہانی چمکیلی صبح اپنا تمامتر حسن
 تجھ میں  ہی منتقل کرنے آئ ہے
اسکے  عوض میں اسے کچھ نہیں چاہیے
بلکے  تیری حقیقت  کا سبب
اسی کی نمود سے ہے
تو بےسایا رہ جاتا گر دھوپ نہ ملتی
تو سانس نہیں لے پاتا گر ہوا نہ چلتی
تو بھوکا مر جاتا گر بارش نہ ہوتی
تو  بےعلم رہ جاتا گر روشنی نہ ملتی
رات کا پردہ  گر نہ  گرتا
گر صبح کا جلوہ تجھ کو نہ ملتا
پھر  نظام ہستی  کیسے چلتا
کائنات کی سب سے حسین شے ہے تیری ہستی
اور تیری ارتقا کا سبب ہے اسکی کریمی
اور اسکی کریمی دلوں کا جھکنا
دلوں کی تسخیری بے محبّت نہ ہوگی
محبّت ہوگی تو کامل کریگی
کمال ہستی احساس حق کا
جمال ہستی نور-ے- خدا ہے
  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں