یہ سہانی چمکیلی صبح اپنا تمامتر حسن
تجھ میں ہی منتقل کرنے آئ ہے
اسکے عوض میں اسے کچھ نہیں چاہیے
بلکے تیری حقیقت کا سبب
اسی کی نمود سے ہے
تو بےسایا رہ جاتا گر دھوپ نہ ملتی
تو سانس نہیں لے پاتا گر ہوا نہ چلتی
تو بھوکا مر جاتا گر بارش نہ ہوتی
تو بےعلم رہ جاتا گر روشنی نہ ملتی
رات کا پردہ گر نہ گرتا
گر صبح کا جلوہ تجھ کو نہ ملتا
پھر نظام ہستی کیسے چلتا
کائنات کی سب سے حسین شے ہے تیری ہستی
اور تیری ارتقا کا سبب ہے اسکی کریمی
اور اسکی کریمی دلوں کا جھکنا
دلوں کی تسخیری بے محبّت نہ ہوگی
محبّت ہوگی تو کامل کریگی
کمال ہستی احساس حق کا
جمال ہستی نور-ے- خدا ہے
اور تیری ارتقا کا سبب ہے اسکی کریمی
اور اسکی کریمی دلوں کا جھکنا
دلوں کی تسخیری بے محبّت نہ ہوگی
محبّت ہوگی تو کامل کریگی
کمال ہستی احساس حق کا
جمال ہستی نور-ے- خدا ہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں