پیر، 14 نومبر، 2011

ایک نئی کرن





آج کا سورج پھر دیکھو
 ایک نئی کرن لایا ہے
ایک مایوس ذہن میں پھر سے
 ایک نیا سودا سمایا ہے
کوئی کام ادھورا ہے اب تک
ایک بات پوری ہونی ہے ابھی
اس روشن روشن سورج کی
ہر کرن ایک امید نئی
اسی کے سنگ جاگے ہیں
 سوے دل میں ارمان کئی
   داتا کے تانے بانوں میں 
 الجھا الجھا  یہ دل دیوانہ 
اگلے لمحے سے کب واقف ہے
ایک ڈوبتی نبض سے پھوٹا نغمہ
ایک نئی خوشی  کی آمد نے
پھر ایک نئی توانائی بخشی
ابھی کھیل ختم نہیں ہوا
ابھی پردہ نہیں گرا
تیرے عمل کے میدان کا
دائرہ  یہ کہتا ہے
میں  ہر روز بڑھتا جاؤنگا
تیری کسوٹی بن کر آؤنگا
تیری اس نیم جان ہستی کو
ایک نیا رنگ  دے جاؤنگا
تیرے رنگ  میں رنگ جاینگے
جو گل تیرے حصّے میں آینگے 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں