جمعرات، 3 نومبر، 2011

ابتدا


خوشیاں دم بھر کی مہمان ہوتی ہیں
جب تک غم کی پہچان نہیں ہوتی
درد سے رشتہ جب  جڑ  جائے
تب خوشیوں کا مطلب ملتا ہے
آسودگی  بے حس اگر بنادیگی
خوشیاں بھی اوجھل ہوجاینگی
یہ  بے چینی  یہی کہتی ہے
خوشی احساس کی زمین ہے
وہ  احساس جو سکوں کی سطح پر
کھلتا ہے کنول کی طرح
جب تو  بنتا ہے درد کی دوا
وہی پل ہے  تیری خوشی کی ابتدا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں