خوشیاں دم بھر کی مہمان ہوتی ہیں
جب تک غم کی پہچان نہیں ہوتی
درد سے رشتہ جب جڑ جائے
تب خوشیوں کا مطلب ملتا ہے
آسودگی بے حس اگر بنادیگی
خوشیاں بھی اوجھل ہوجاینگی
یہ بے چینی یہی کہتی ہے
خوشی احساس کی زمین ہے
وہ احساس جو سکوں کی سطح پر
کھلتا ہے کنول کی طرح
جب تو بنتا ہے درد کی دوا
وہی پل ہے تیری خوشی کی ابتدا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں