یہ خاموش صبح یہ کہتی ہے
تعبیر ہوں میں ایک شب کی
گر کل تیرا رہا ہو نیک عمل
میں آج تیری خوشی ہوں کہتی ہے
میں روز ایک سوچ نئی ہوں تیرے لئے
میں روز ایک امید نئی ہوں تیرے لئے
لے تھام لے مجھ کو مضبوطی سے
ایک نئی منزل کی کڑی ہوں تیرے لئے
گر تو کل سے کنارہ کرلیگا
گر آج مجھ سےتو منھ موڈیگا
تیرے ہاتھ کچھ نہ آیگا
خالی ہاتھ جہاں میں آیا تھا
خالی ہاتھ جہاں سے جاےگا
یہ وقت بڑا ہی دانا ہے
اور انسان تو ناداں ہے
تیرے شرف کو پہچان ذرا
کڑیوں سے کڑیوں کو ملا
تیرا مقصد جان ذرا
اس صبح کو تو اپنا بنا
پھر دیکھ سب کچھ ہے تیرا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں