منگل، 17 ستمبر، 2013

کوئی پل تیرا زیاں نہیں.............







کافی دنوں بعد ایک صبح  ملی ہے 
یہ ان ہنگاموں سے کتنی حسین
 جو میری شامیں ڈھالنے نہیں دیتے
 مجھے میری صبحوں  سے ملنے نہیں دیتے 
ان تھکے تھکے لمحوں نے 
اکثر کانوں میں  کہا ہے میرے 
تیرا کرم ابھی ادھورا ہے 
تو نے ان کے  تبسم  میں  
جو دیکھا وہ بھی  سویرا  ہے 
کوئی پل تیرا زیاں نہیں 
تو کہیں نہیں گر یہاں نہیں 
مان  لے مقصد تیری ہستی کا 
صرف ٹوٹ  کر بکھر جانا ہے 
یہ مہلّت   چند روزہ ہے 
پھر واپس اپنے گھر جانا ہے 
جینا اس کا جینا ہے 
جسکے ہاتھ مقصد آجاے 
عبادت اسکی ہے یہی 
کے وہ  کسی کے کام آجاے 

پیر، 25 فروری، 2013

میں ہر لمحہ عبادت کرتی ہوں





کافی  دنوں  بعد  اے  صبح آج  میں پھر تجھ  سے ملونگی 
آج  تجھ سے مل کر کچھ ایسا کہونگی 
جو شاید  پہلے کبھی نہ کہا 
کے میرے خدا نے یہ ارادہ میرے دل میں  نہ رکھا 
جب بات زبان پر آ ہی گی 
تو کیوں نہ کہوں میں تم سب سے 
اس زندگی کا ہر عمل ایک کرم ہی تو ہے 
اس زندگی کا ہر موقع ایک عمل ہی تو ہے 
عبادت  اصلاح  عمل کا نام ہی تو ہے
 عبادت محبت  کا پیام ہی تو ہے 
پھر میں  ہر لمحہ عبادت کرتی ہوں 
 ہر لمحہ تیرے بندوں سے محبت کرتی ہوں