منگل، 17 ستمبر، 2013

کوئی پل تیرا زیاں نہیں.............







کافی دنوں بعد ایک صبح  ملی ہے 
یہ ان ہنگاموں سے کتنی حسین
 جو میری شامیں ڈھالنے نہیں دیتے
 مجھے میری صبحوں  سے ملنے نہیں دیتے 
ان تھکے تھکے لمحوں نے 
اکثر کانوں میں  کہا ہے میرے 
تیرا کرم ابھی ادھورا ہے 
تو نے ان کے  تبسم  میں  
جو دیکھا وہ بھی  سویرا  ہے 
کوئی پل تیرا زیاں نہیں 
تو کہیں نہیں گر یہاں نہیں 
مان  لے مقصد تیری ہستی کا 
صرف ٹوٹ  کر بکھر جانا ہے 
یہ مہلّت   چند روزہ ہے 
پھر واپس اپنے گھر جانا ہے 
جینا اس کا جینا ہے 
جسکے ہاتھ مقصد آجاے 
عبادت اسکی ہے یہی 
کے وہ  کسی کے کام آجاے 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں