بدھ، 2 نومبر، 2011

آج پھر ایک وعدہ ہے



آج پھر ایک  وعدہ  ہے
آج پھر ایک  ارادہ  ہے
کل کے واسطے کرنی ہے تیاری
بھول جا اب تلک کی بےکاری
ابھی محنت  کڑی کرنی ہے
جیسی کرنی ویسی بھرنی ہے
نیتوں کا بیج بونا ہے
کرم کی فصل اگانی ہے
ہر چاہ  رہ  جانی ہے  
توبہ سنگ جانی ہے
یہ اسکی مہربانی ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں