پیر، 31 اکتوبر، 2011

جلوہ



یہ روشنی کل کے  اندھیرے کا پھل ہے
یہ روشنی آج کی پھر ایک پہل ہے
کل جوتکلیف دہ  تھا  
آج اسکی حقیقت سمجھاتی ہے
کے کچھ بھی بلا ارادہ نہیں ہوتا
سب کچھ طےشدہ ہوتا ہے
کاتب نے  مقدر لکھ رکھا ہے
اور بندہ اپنے نفس کی کہانی لکھنا چاہتا ہے
وو کہانی جو انجام  نہیں چاہتی
بس بےخبری کا لطف اٹھانا چاہتی ہے
مگر داتا کو یہ منظور نہیں
وو اپنی تخلیق کو بھٹکنے کیسے دے سکتا ہے
وقت اور حالات کی کسوٹی پیش ہوتی ہے
اور احساسات کا سفر درپیش ہوتا ہے
یہیں وو لمحہ راہ تک رہا ہوتا ہے
جہاں بندہ اپنے خالق کا دیدارکر سکتا ہے
وو جلوہ جو ازل سے بیتاب ہے
عیاں ہونے کو
نہاں ہونے کو
پنہاں بھی ہے
اور اوجھل بھی
بس ذرا سی غور- و- فکر درکار ہوتی ہے
کے بندہ اسکی پہچان کرلے
اسکا قرب پالے
اور اپنے ہونے پہ  نازاں ہوجاے
اسے اس بات کا احساس ہوجاے
کے گر تو نہیں تو میں بھی نہیں
گر میں نہیں تو کچھ بھی نہیں...................

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں