جمعرات، 1 دسمبر، 2011

موسم ہیں یہ

یہ سرد صبح کہ رہی ہے
میں جاگ اٹھی ہوں اور دنیا سورہی ہے
موسم ہیں یہ آیینگے جاینگے
ہر موسم میں ہم اپنا عہد نبھاینگے
سنو خود کو کبھی غور سے
نہ گھبراؤ اس خاموش شور سے
یہ وہی ورد ہے عاشقانہ
ناممکن ہے تیرا اسے بھول جانا
وہ  جانتا ہے بندوں کی ادایں
وہ دے رہا ہے دھڑکنوں سے صدایں
تیری سماعتوں کو دعوت ملی ہے
تجھے بندگی کی عادت ملی ہے
وقت صبح ہے خدا بندے کی گفتگو کا
یہی وقت ہے حاصل ے جستجو کا  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں