یہ سرد صبح کہ رہی ہے
میں جاگ اٹھی ہوں اور دنیا سورہی ہے
موسم ہیں یہ آیینگے جاینگے
ہر موسم میں ہم اپنا عہد نبھاینگے
سنو خود کو کبھی غور سے
نہ گھبراؤ اس خاموش شور سے
یہ وہی ورد ہے عاشقانہ
ناممکن ہے تیرا اسے بھول جانا
وہ جانتا ہے بندوں کی ادایں
وہ دے رہا ہے دھڑکنوں سے صدایں
تیری سماعتوں کو دعوت ملی ہے
تجھے بندگی کی عادت ملی ہے
وقت صبح ہے خدا بندے کی گفتگو کا
یہی وقت ہے حاصل ے جستجو کا
تیری سماعتوں کو دعوت ملی ہے
تجھے بندگی کی عادت ملی ہے
وقت صبح ہے خدا بندے کی گفتگو کا
یہی وقت ہے حاصل ے جستجو کا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں