بدھ، 28 دسمبر، 2011

پرواز

آج پھرایک اچھنبا ہے
آج کی صبح پھر ایک حیرت ہے
آج کی صبح پھر ایک حسرت ہے
کاش کل کا تکلیفدہ منظر آج اوجھل ہوسکتا
کل ایک حقیقت تھا
آج کی یہ حقیقت ہے
جو بیت گیا وو بھی سچ تھا
جو بیت رہا ہے وو بھی سچ ہے
ایک پرندہ اپنی حدوں سے جب گزرا
آزادی کا مطلب بدل گیا
اپنے جھنڈ سے جب چھوٹا
اسکو صیاد نے کتنا لوٹا
اب نہ پر تھے نہ پرواز
سارے احساس چیخ اٹھے بے آواز
ہاے کاش میرے گمان سارے ہوتے جھوٹے
میرا چمن ،چمن والے سب چھوٹے
 اب کیا ہوسکتا تھا
جب چڑیاں چگ گئیں کھیت
اب پچھتاوا ہی  بن سکتا ہے اسکا واحد میت
ایک اور صبح پھرآییگی 
تجھے تجھ سے ملوایگی
اب بھی وقت ہے جان لے تو
اپنے اپنوں کی الفت پہچان لے تو
پھر دیکھ تو شبنم سا دھل جاےگا
پھر ایک موقع روشن ہونے کا پایگا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں