جمعرات، 22 دسمبر، 2011

اختیار



یہ  جو صبحیں اکثر مسس ہوجایا کرتی ہیں
اب ایسا بھی نہیں کے صبحیں یہ آئ نہ ہوں زندگی میں
آییں بھی اور ہم انسے ملے بھی
پر ہم انسے آپکو ملا نہ سکے
کے یہ صبحیں اپنی آپکی اسلئے نہ ہوسکیں
کے ہم ان صبحوں سے کھل کے نہ مل سکے
اپنی عدم فرصتی کی وجہ سے
سو اسکی کثر آج پوری کرنے کا ارادہ لے کر حاضر ہیں
آج یہ صبح دیکھئے ہم سے کیا کہتی ہے
اپنی پریشانیوں کو بھول جا
ذرا ہماری خوشدلی سے نظر ملا
پھر اپنے غم سارے بھول جا
ویسے بھی غم کاہے کا ہے
اختیار خود پر تو ہے الحمدلللہ
پھر حکومت بھی اپنی،اختیار بھی اپنا
حکومت نفس پر،اختیار  خود پر
اب دیکھنا ذرا، سکون کی سب سے بہتر یہی دوا
تو زمانے کی بےرخی بھول جا
اور اپنی نیت کو آزما
حقیقتوں کے قریب جا
اور پالے راز زندگی کا


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں