منگل، 27 دسمبر، 2011

حق زندگی کا


آؤ بتاؤں میں اپنی صبحوں کی کہانی
مجھ کو سنو ان صبحوں کی زبانی
اکثر شب بھر یہی سوچ رہا کرتی تھی
کیا ہوگا گر یہ میری آخری شب ہو
پھر جاگنا جانے کب ہو
کیا کل میری صبح آییگی
پھر حق زندگی کا سمجھا یگی
میرے ہونے کا سبب بتلاےگی
کل جو روک لگی تھی سوچوں پر
کل کو روک رکھا تھا آنے والے کل پر
کیا وہ سارے کرم کروایگی
کیا کوئی صبح ایسی بھی آییگی  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں