آؤ بتاؤں میں اپنی صبحوں کی کہانی
مجھ کو سنو ان صبحوں کی زبانی
اکثر شب بھر یہی سوچ رہا کرتی تھی
کیا ہوگا گر یہ میری آخری شب ہو
پھر جاگنا جانے کب ہو
کیا کل میری صبح آییگی
پھر حق زندگی کا سمجھا یگی
میرے ہونے کا سبب بتلاےگی
کل جو روک لگی تھی سوچوں پر
کل کو روک رکھا تھا آنے والے کل پر
کیا وہ سارے کرم کروایگی
کیا کوئی صبح ایسی بھی آییگی
کل جو روک لگی تھی سوچوں پر
کل کو روک رکھا تھا آنے والے کل پر
کیا وہ سارے کرم کروایگی
کیا کوئی صبح ایسی بھی آییگی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں