بدھ، 7 دسمبر، 2011

کارواں وقت کا



`
یہ چپ چپ سی خاموش صبح یہ کہتی ہے
ہر صبح میں کوئی کہانی رہتی ہے
ہر کہانی اس صبح سے یہی کہتی ہے
وقت کا پہیہ گر نہ چلتا
وقت اگر انسان  کو  نہ ملتا
انسان اس صبح سے کیسے ملتا
کارواں وقت کا کیسے چلتا
اندھیروں سے کوئی کیسے نکلتا
ایک کہانی ہے ادھوری شب کی
ایک کہانی پوری ہے صبح کی
بندے کردار نبھالے اپنا
یہ حقیقی ہے سپنا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں