اے میری پیاری صبح
میں تیری شکرگزار ہوں
کے مجھے تجھ سے آج وو لمحہ ملا
جہاں مجھ پر ایک اور راز کھلا
ایک درد شبنم تھا
ایک غم بنا انگارہ
کب سے خود پر رویا کرتا تھا بےچارہ
یہ لوگ آخر اپنوں سے چاہتے ہیں کیا
ہر ذات خود میں ڈوبی ہے
ہر بات غرض ہے یہی انکی خوبی ہے
اپنے سوا سب کو دیوانہ یہ سمجھے ہیں
دیوانوں کو خبر ہے اس عیاری کی
شاطر دل کہاں اوروں کی پروا کرتے ہیں
یہ دیکھ دل بے-آواز رویا تھا جب جب
ایک لمحہ اس سے بول اٹھا
خدا نے ہر شے بنائی انسان کی خاطر
پھر تو یہ کیوں نہیں سمجھا اے انسان
تجھ کو بھی بنایا انسان کے ہی لئے
ہر شے ضرورت کی حامل ہے
اور تو بھی ضرورت میں شامل ہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں