ہفتہ، 24 دسمبر، 2011

آج کا سبق



اے میری پیاری صبح
میں تیری شکرگزار ہوں
کے مجھے تجھ سے آج وو لمحہ ملا
جہاں مجھ پر ایک اور راز کھلا
ایک درد شبنم تھا
ایک غم بنا انگارہ
کب سے خود پر رویا کرتا تھا بےچارہ
یہ لوگ آخر اپنوں سے چاہتے ہیں کیا
ہر ذات خود میں ڈوبی ہے
ہر بات غرض ہے یہی انکی خوبی ہے
اپنے سوا سب کو دیوانہ یہ سمجھے ہیں
دیوانوں کو خبر ہے اس عیاری کی
شاطر دل  کہاں اوروں کی پروا کرتے ہیں
یہ دیکھ دل بے-آواز رویا تھا جب جب
ایک لمحہ اس سے بول اٹھا
خدا نے ہر شے بنائی انسان کی خاطر
پھر تو یہ کیوں نہیں سمجھا اے انسان
تجھ کو بھی بنایا انسان کے ہی لئے
ہر شے ضرورت کی حامل ہے
اور تو بھی ضرورت میں شامل ہے 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں