منگل، 20 دسمبر، 2011

صبح صادق


اے صبح تجھے سلام
تجھ سے کلام کرنے والی ہر شے پر آ  لکھ  دوں اپنا نام
کے یہ مجھ سے کتنے بہتر ہیں
کے یہ ہر بےخبر کو خبر دیتے ہیں
جاگو دیوانو سویرا نہیں یہ نوید ہے زندگی کی
یہ بانگ صبح کی  بندگی کی
یہ آج کا پہلا کرم ہے
اگر اب بھی نہ جاگے
ستم در ستم ہے
کوئی درد گر تم کو سونے نہ دے
مضمحل کوئی غم گر اٹھنے نہ دے
سوچو ذرا کی تھی کیا خطا
اے صبح اب تو ہی بتا
فراموش تجھ کو کیا کس نے سدا
کون دنیا میں بس الجھا رہا
یہ الجھن ہے بس اسی کی سزا
آ خود کو کر سپردے  خدا
صبح  صادق کر شکر رب کا  ادا



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں