یہ شبنمی صبح مخملی چادر اوڑھے
کسی شرمیلی دلہن کی طرح
اپنے پورے سنگھار سے آراستہ پیراستہ
دل کو لبھاتی`
`سارے ناز لٹاتی
خراماں خراماں چلی آرہی ہے
کون ہے جو پہلی کرن بننا چاہتا ہے
اپنی زندگی کو منور کرنا چاہتا ہے
ان تابانیوں سے خوشیاں کشید کرنا چاہتا ہے
وہ دیکھو چلی آرہی ہے صبح
اپنی باہیں پسارے تمھارے خیرمقدم کے لئے تیار
تمہیں اپنی تابانیاں بخشنے کو بیقرار
کے آؤ خود کو روشن کرلو
مجھ کو اپنی زندگی میں بھر لو
میں ہر روز تم سے ہی ملنے آتی ہوں
تمہارا زندگی کے ہر پہلو سے ناتا جوڈ جاتی ہوں

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں