ہفتہ، 10 دسمبر، 2011

یہ شبنمی صبح





یہ شبنمی صبح مخملی چادر اوڑھے
کسی شرمیلی دلہن کی طرح  
اپنے پورے سنگھار  سے آراستہ پیراستہ
   دل کو لبھاتی`
`سارے ناز لٹاتی
خراماں خراماں چلی آرہی ہے
کون ہے جو  پہلی کرن بننا چاہتا ہے
اپنی زندگی کو منور کرنا چاہتا ہے
ان تابانیوں  سے خوشیاں کشید کرنا چاہتا ہے
وہ  دیکھو چلی آرہی ہے صبح
اپنی  باہیں   پسارے تمھارے خیرمقدم کے لئے تیار
تمہیں اپنی تابانیاں بخشنے کو بیقرار
کے آؤ خود کو روشن کرلو
مجھ کو اپنی زندگی میں  بھر لو
میں  ہر روز تم سے ہی ملنے آتی ہوں
تمہارا زندگی کے ہر پہلو سے ناتا جوڈ جاتی ہوں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں