آؤ آج پھر تمھاری صبح ہم بنا دیں
کل کے سروں سے آج کے سر ملا دیں
وہ ادھورا نغمہ ابھی تک راہ تک رہا ہے
چلو آج تمھارے بول اسکو سکھا دیں
کے گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
جو ساتھ ہوگیا پھر کبھی جاتا نہیں
یہ راہیں تک رہی ہیں کب سے تجھے
اے مسافر ذرا غور کر پڑھ لے مجھے
مجھے نہ موڈ، نہ منزل چاہئے
مجھے بس مسافر تیری لگن چاہئے
تیرے شوق کی ہی کہانی ہوں میں
تو بادل ہے اور پانی ہوں میں
تیرے چاپ سے ہے مقدرمیرا
تیرے سفر کی جوانی ہوں میں
جو ساتھ ہوگیا پھر کبھی جاتا نہیں
یہ راہیں تک رہی ہیں کب سے تجھے
اے مسافر ذرا غور کر پڑھ لے مجھے
مجھے نہ موڈ، نہ منزل چاہئے
مجھے بس مسافر تیری لگن چاہئے
تیرے شوق کی ہی کہانی ہوں میں
تو بادل ہے اور پانی ہوں میں
تیرے چاپ سے ہے مقدرمیرا
تیرے سفر کی جوانی ہوں میں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں