ہفتہ، 17 دسمبر، 2011

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں


آؤ آج پھر تمھاری صبح ہم بنا دیں
کل کے سروں سے آج کے سر ملا دیں
وہ  ادھورا نغمہ ابھی تک راہ تک رہا ہے
چلو آج تمھارے بول اسکو سکھا دیں
کے گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
جو ساتھ ہوگیا پھر کبھی جاتا نہیں
یہ راہیں تک رہی ہیں کب سے تجھے
اے مسافر ذرا غور کر پڑھ لے مجھے
مجھے نہ موڈ، نہ منزل چاہئے
مجھے بس مسافر تیری لگن چاہئے
تیرے شوق کی ہی کہانی ہوں میں
تو بادل ہے اور پانی ہوں میں
تیرے چاپ سے ہے مقدرمیرا
تیرے سفر کی جوانی ہوں میں


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں