آج یہ صبح ایک نئی برسات کے سنگ آئ ہے
یہ خوبصورت دھلا دھلا سا موسم جیسے سارا میل دلوں کا بہا لے گیا ہو
کل کی کسوٹی سے ایک سیکھ نئی لے کر نکلا ہے یہ آج کا اجالا
ہر آنے والے پل سے انجان یہ لمحہ نوید نو ہے اس صبح کامل کی طرح
تقدیر لکھنے والے کا ایک اشارہ ہے یہ
کے یہی وقت ہے ،اسے ضایع نہ ہونے دو
اس قیمتی وقت کو اپنی تقدیر بنا لو
کاتب کے قلم سے نکلا ہوا لمحہ ہے یہ
اسے اپنے کرم کی داستان کر ڈالو
اپنے ضبط کا امتحاں دے ڈالو
اپنے خلوص کے گل کھلا دو
اپنے الفت کے مہک ہواوون میں بکھیرو
اپنے دلوں کو اور کشادگی بخشو
تاکے وہ کسی یاسیت میں ڈوبے ہوے لمحے کے لئے کم نہ پڑ جائے
خداوند کی خوشنودی اسکی محبّت کی تبلیغ میں ہے
اور اسکی محبّت سب کے لئے یکساں ہے
بلکل اس صبح کی عنایتوں کی طرح
جو بےدریغ سب کے لئے یکساں نعمتین لٹاتی ہے
یہ زندگی ہر ایک کے حصّے آتی ہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں