پیر، 12 دسمبر، 2011

یہی وقت ہے



آج یہ صبح ایک نئی  برسات  کے سنگ آئ ہے
یہ خوبصورت دھلا دھلا سا موسم جیسے سارا میل دلوں کا بہا لے گیا ہو
کل کی کسوٹی سے ایک  سیکھ  نئی لے کر نکلا ہے یہ  آج کا اجالا
ہر آنے والے پل سے انجان یہ لمحہ نوید نو ہے اس صبح کامل کی طرح
تقدیر لکھنے والے کا ایک اشارہ ہے یہ
کے یہی وقت ہے ،اسے ضایع نہ ہونے دو
اس قیمتی وقت کو اپنی تقدیر بنا لو
کاتب کے قلم سے نکلا ہوا لمحہ ہے یہ
اسے اپنے کرم کی داستان کر ڈالو
اپنے ضبط کا امتحاں دے ڈالو
اپنے خلوص کے گل کھلا دو
اپنے الفت کے مہک ہواوون میں بکھیرو
اپنے دلوں کو اور کشادگی بخشو
تاکے وہ  کسی یاسیت میں ڈوبے ہوے لمحے کے لئے کم نہ پڑ جائے
خداوند کی خوشنودی اسکی محبّت کی تبلیغ میں ہے
اور اسکی محبّت سب کے لئے یکساں ہے
بلکل اس صبح کی عنایتوں کی طرح
جو بےدریغ سب کے لئے یکساں نعمتین  لٹاتی  ہے
یہ زندگی ہر ایک کے حصّے آتی ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں