اتوار، 1 جنوری، 2012

اس سال پھر کرم ہوجاے



 

یہ صبح بھینی بھینی  مہک لائی ہے
یہ سوندھی سوندھی خوشبو دل کو لبھا رہی ہے
ایک امید پھر سے جاگی ہے
جب کالی سیاہ رات کا بھی سویرا ہے
پھر کیوں نہ کل کا سورج میرا ہے
یہ سال ہم کو کیا کیا دے گیا
یہ سال ہم سے کیا کیا لے گیا
اب مڈ کر دیکھیں بھی تو کیا
سارے منظر دھندلے ہیں
جو ٹھر   گئے  وہ خواب نشیلے ہیں
 اس  سال کی ہر سوچ  نئی 
پھر جاگے ہیں ارمان کئی
اس سال پھر کرم ہوجاے
ہر دل پر تو چھا جائے
ایک تیری مہر کے دم پر ہی
بندہ اپنی راہ پا جائے  


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں