یہ صبح بھینی بھینی مہک لائی ہے
یہ سوندھی سوندھی خوشبو دل کو لبھا رہی ہے
ایک امید پھر سے جاگی ہے
جب کالی سیاہ رات کا بھی سویرا ہے
پھر کیوں نہ کل کا سورج میرا ہے
یہ سال ہم کو کیا کیا دے گیا
یہ سال ہم سے کیا کیا لے گیا
اب مڈ کر دیکھیں بھی تو کیا
سارے منظر دھندلے ہیں
جو ٹھر گئے وہ خواب نشیلے ہیں
اس سال کی ہر سوچ نئی
پھر جاگے ہیں ارمان کئی
اس سال پھر کرم ہوجاے
ہر دل پر تو چھا جائے
ایک تیری مہر کے دم پر ہی
بندہ اپنی راہ پا جائے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں