پیر، 30 جنوری، 2012

ایک نیا آغاز




آج کی خوشگوار صبح بھی مضمحل سی لگ رہی ہے
 کیوں کے دل جو محسوس کرتا ہے  اسی  میں   ڈھل جاتا ہے
زندگی نے پھر ایک درس دیا 
زندگی نے پھر سے حیران کیا
ایسا بھی ہوسکتا ہے
جو آپ نہیں چاہتے
جو آپ نے نہیں سوچا
 ضروری نہیں کے زندگی ہمیشہ یک رنگ ہی ہو
آنکھوں کو سارے رنگ نصیب ہوتے ہیں
ان رنگوں کا امتیاز تو حالات کرتے ہیں
ان رنگوں کو دستیاب بھی حالات ہی کرتے ہیں
یہی قسمت، تقدیر کہلاتی ہے
کاتب کا لکھا پورا ہو کر رہتا ہے
انسان کو جو ملنا ہو مِل کر ہی رہتا ہے
انہی سے گزر کر ہی تو انسان کی تکمیل ہوتی ہے
یہی فہم-و-ادراک کی دلیل ہوتی ہے
انہی سے انسانیت کی تشکیل ہوتی ہے
آج کی یہ صبح پھر ایک نیا آغاز ہے 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں