ہفتہ، 7 جنوری، 2012

یہ اپنی صبحیں



اسلام وعلیکم دوستو
هم! پھر سے کچھ صبحیں مس ہوگیئں دیکھئے
کیا کیا جائے
کمبخت سوچوں نے ہی تو ڈبویا ہمکو ورنہ
ہم بھی انسان تھے کام کے
کبھی صبح غایب
تو کبھی رات ندارد
آخر انہی سوچوں تلے دب کے رہ گئے ہمارے شب- و- روز
چلو جب تلک سانس تب تلک آس
کل پھر صبح آییگی
کوئی نیا پیغام سناےگی
ہماری سن حسسوں کو جگاےگی
خود سے کئے سارے وعدے یاد دلاےگی
زندگی کے اصلی رنگ دکھاےگی
ہمیں اپنےخالق سے ملاےگی
 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں