جمعرات، 26 جنوری، 2012

گئی صبحیں



کافی دن ہوگئے آپ سب سے ملے
 گئی صبحیں اپنی نہ تھیں
کشمکش ذہنی ہو تو دل بھی خاموش رہتا ہے
جو اسے کہنا ہوتا ہے نہیں کہتا ہے
احساس بےبسی کا جان لیوا تھا
کاش کوئی لمحہ اختیار کا بھی ملتا
کسی درد کی ہم بھی دوا بنتے
کہیں کوئی بوجھ اتر پاتا
یاخدایا تو حاکم ہے ہم محکوم
کسی کی قسمت ہم کو نہیں معلوم
بس اتنی سی التجا ہے
کوئی دعا خالی نہ جائے
پھر سے وہی  سکوں  لوٹ آے
ہر دل تیرے کرم سے راحت پاے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں