کافی دن ہوگئے آپ سب سے ملے
گئی صبحیں اپنی نہ تھیں
کشمکش ذہنی ہو تو دل بھی خاموش رہتا ہے
جو اسے کہنا ہوتا ہے نہیں کہتا ہے
احساس بےبسی کا جان لیوا تھا
کاش کوئی لمحہ اختیار کا بھی ملتا
کسی درد کی ہم بھی دوا بنتے
کہیں کوئی بوجھ اتر پاتا
یاخدایا تو حاکم ہے ہم محکوم
کسی کی قسمت ہم کو نہیں معلوم
بس اتنی سی التجا ہے
کوئی دعا خالی نہ جائے
پھر سے وہی سکوں لوٹ آے
ہر دل تیرے کرم سے راحت پاے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں