پیر، 6 فروری، 2012

آج پھر خدا کو میں پکار لوں



آ  اے میری پیاری صبح
تجھے ذرا نہار لوں
کئی دنوں کے بعد جاگی  ہوں نیند سے
آج پھر  خدا کو  میں پکار لوں
شاید ہمیشہ کی ترھا معاف کردے مجھے
 ہوسکتا ہے وہ اپنی  محبّت کو میری محبّت کردے
ہوسکتا ہے، اسکی رحمت سے کچھ بھی بعید نہیں
وو تو غفور ہے رحیم ہے کریم ہے
اور ہم خود سے تک بےخبر ہیں
وہ  نور ہے اور ہم مغرور ہیں
وہ  عیاں ہے ہرطرف  اور ہم مفرور ہیں
اور ہم ہیں کے خود سے بھی دور ہیں
وہ  سویروں  میں آواز دیتا ہے
وہ مومنوں کی جبیں پردمکتا ہے
وہ معصوموں کی مسکانوں میں ملتا ہے
ذرا سر کو جھکاؤ تو خود اپنے گریبانوں میں ملتا ہے
بس صبح کی پہلی کرن سے نظر ملا کر دیکھ
وہ  کرن تجھے خود میں  مدغم کرتے ہوے کہےگی
میں  رب سے جدا نہیں
تو مجھ سے جدا نہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں