ہفتہ، 18 فروری، 2012

تیری چاہت کیا ہے




آج پھر ایک صبح ملی ہے ہمکو 
آج کی صبح ہمیں بھی ہوش آجاے
ان سن حسوں میں بھی وہ بول اٹھے
دیکھ ہوش کے ناخن لے اب تو
یہ خودفراموشی چھوڈ دے اب تو
گر میں چاہوں تجھے پل میں میں مل جاوں
پر مجھے یہ دیکھنا ہے 
کے تیری چاہت کیا ہے
گر مجھ سے محبت  ہے تجھ کو
اپنی عبادت میں مجھ سے مل
مجھ سے ہی تیری محبت قایم ہے
گر تو غیر کی جانب دیکھےگا
  تو غیر ہی مانا جاےگا
  پھر نہ غیر رہیگا تیرا
نہ اپنوں کا تو ہو پایگا
تیری پہچان فقط ہے مجھ سے
تو صرف مجھ سے ہی جانا جاےگا
تیری تقلیق کا مقصد صرف اتنا ہے
تجھے ہر حال میں مجھ کو پانا ہے
تو چاہے جس راہ پر بھی قدم رکھے
تجھے بس میری راہوں میں  آنا ہے      

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں