پھر ایک مضمحل سی صبح
یہ کہ رہی ہے ہم سے
دیکھ یہی تیرا زوال ہے
اسی لئے تیرا یہ حال ہے
کس لئے اور کیوں یہ ملال ہے
یہ کیفیت تو ہر ذی روح کو ملی ہوگی
کے وقت نے سب پر اپنی ایک سی چھاپ چھوڑی ہے
یہ بھی ایک رنگ ہے زندگی کا
زندگی اپنے عنوان بدلتی رہتی ہے
رفتار بھی وقت کے حساب سے ملتی ہے
کبھی تیز، کبھی سست، کبھی چست تو کبھی مست
یہ طے شدہ سفر ہے
مسافر کا کام چلتے جانا ہے
اسکی مرضی سے آنا ہے، اسکی مرضی سے جانا ہے
یہ وقفہ حیات آپکے کرم طے کرتا ہے
بس اور کچھ نہیں
فیصلہ رب کے ہاتھ
کس نے بخوبی اپنا کردار نبھایا
کون کب کس کے کام آیا
دوست تو دوست کے کام آتے ہی ہیں
کسی نے دشمن کا بھی ساتھ نبھایا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں