منگل، 7 فروری، 2012

وقفہ حیات





پھر ایک مضمحل سی صبح
یہ  کہ  رہی ہے ہم سے
دیکھ یہی تیرا زوال ہے
اسی لئے تیرا یہ حال ہے
کس لئے اور کیوں یہ ملال ہے
یہ کیفیت تو ہر ذی روح کو ملی ہوگی
کے وقت نے سب پر اپنی ایک سی چھاپ  چھوڑی ہے
یہ بھی ایک رنگ ہے زندگی کا
زندگی اپنے عنوان بدلتی رہتی ہے
رفتار  بھی وقت کے حساب سے ملتی ہے
کبھی تیز، کبھی سست، کبھی چست تو کبھی مست
یہ طے شدہ سفر ہے
مسافر کا کام چلتے جانا ہے
اسکی مرضی سے آنا ہے، اسکی مرضی سے جانا ہے
یہ وقفہ حیات  آپکے کرم طے کرتا ہے
بس اور کچھ نہیں
فیصلہ رب کے ہاتھ 
کس نے بخوبی اپنا کردار نبھایا
کون کب کس کے کام آیا
دوست تو دوست کے کام آتے ہی ہیں
کسی  نے دشمن کا بھی ساتھ نبھایا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں