منگل، 14 فروری، 2012

تیری روپہلی کرنوں سے






آ اے میری پیاری صبح
تیری روپہلی کرنوں سے
میں  اپنا اجالا بھی کرلوں
آ اس اجلے لمحے کو
میں  اپنی روح میں  بھر لوں
ایک تو ہے جوخود کو بانٹے ہے
اور ایک ہم ہیں خود کو سمیٹے بیٹھے ہیں
گر ہر دل ایک لمحہ اپنا بانٹیگا
شاید ہر دل میں  اجالا کردیگا
کوئی امید کا ہو لمحہ
کہیں کرم کا ہو کوئی لمحہ
کہیں عمل کی کوئی ساعت  ہو
بوند بوند خوشی کی مل کر
غم کے ماروں کو شاداں کردے
ہم انسانوں کو انسان کردے
      

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں