جمعہ، 24 اگست، 2012

سویرا یہ ہے کہ رہا





آج پھر ایک صبح  ملی ہے دھلی دھلی کھلی کھلی
کیوں نہ اس صبح خود کو سنوار دون 
اس میں شامل ہو کر کیوں نہ اس کو بھی نکھار دون 
کے میرا سویرا  یہ ہے کہ رہا 
ان اجالوں  میں آ  تو جھوم   جا 
وہ  فریشتہ  جو آیا ہے در  پر تیرے 
خدا کی رحمت  کا ثبوت  ہے 
تو ادا کر خدا کا شکریہ 
کے اسنے  اپنے  نور کا پیام بھیجا  ہے تجھے 
فرشتوں کا سلام بھیجا ہے تجھے 
تو خوشی سے اپنا سر جھکا 
تو شکر اسکا کر ادا 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں