آج پھر ایک صبح ملی ہے دھلی دھلی کھلی کھلی
کیوں نہ اس صبح خود کو سنوار دون
اس میں شامل ہو کر کیوں نہ اس کو بھی نکھار دون
کے میرا سویرا یہ ہے کہ رہا
ان اجالوں میں آ تو جھوم جا
وہ فریشتہ جو آیا ہے در پر تیرے
خدا کی رحمت کا ثبوت ہے
تو ادا کر خدا کا شکریہ
کے اسنے اپنے نور کا پیام بھیجا ہے تجھے
فرشتوں کا سلام بھیجا ہے تجھے
تو خوشی سے اپنا سر جھکا
تو شکر اسکا کر ادا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں