بدھ، 22 اگست، 2012

کاروان کو بڑھنا تو ہے





کی  دنوں سے کوئی  صبح  یہاں سے گزری نہیں ہے 
چلو آج میں اس رکی  صبح کو  یہاں سے  گزاروں 
کے کاروان کو بڑھنا تو ہے ہی 
یہ جو ٹہر گیا تو زندگی  کا کوئی مطلب نہیں ہے 
میں آج  باانٹوں  چلو آج اپنے دل کے ٹکڑے  
کے یہی آج میرے دامن میں  بچے  ہیں 
یہی آج تیرے قدموں میں بچھے ہیں  
چلو کچھ تو حاصل ہوا ہے ان گزری  صبحوں  سے 
گلوں سے کوئی زخم چھیل گیا ہے 
خاروں سا کوئی پھر مل گیا ہے 
یہ سب ہے انعام اس کا 
   سمجھو  اسے تم  نعمت 
کے کچھ بھی خالی-از- سبب نہیں ہے 
اب یہ ہے باری تمھاری 
تم گلہ  کرو کے سر جھکاؤ  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں