کی دنوں سے کوئی صبح یہاں سے گزری نہیں ہے
چلو آج میں اس رکی صبح کو یہاں سے گزاروں
کے کاروان کو بڑھنا تو ہے ہی
یہ جو ٹہر گیا تو زندگی کا کوئی مطلب نہیں ہے
میں آج باانٹوں چلو آج اپنے دل کے ٹکڑے
کے یہی آج میرے دامن میں بچے ہیں
یہی آج تیرے قدموں میں بچھے ہیں
چلو کچھ تو حاصل ہوا ہے ان گزری صبحوں سے
گلوں سے کوئی زخم چھیل گیا ہے
خاروں سا کوئی پھر مل گیا ہے
یہ سب ہے انعام اس کا
سمجھو اسے تم نعمت
کے کچھ بھی خالی-از- سبب نہیں ہے
اب یہ ہے باری تمھاری
تم گلہ کرو کے سر جھکاؤ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں