جمعہ، 6 اپریل، 2012

حقیقتوں کا نور

 
 

آج کی یہ صبح مزید روشن لگ رہی ہے 
کہیں یہ سچ کا سویرا تو نہیں
کیا یہ حقیقتوں کا نور ہے
آج کی یہ خوشی میں نے  تیرے نام کی
یہ حکمت تیری نکلی کام کی
مجھے خوشی ہے کے تجھے خوشی ملی ہے
سماعتوں کو تیری جس کا انتظار تھا
 جانتی ہوں وہ یہی اقرار تھا
 حقیقت میٹھی ہوتی ہے  
کیوں کی اس میں  خدا کا جلوہ ہے
کیوں کی اس میں رب کی چاہت ہے
کیوں کی یہی حق ے محبّت  ہے


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں