آج کی یہ صبح مزید روشن لگ رہی ہے
کہیں یہ سچ کا سویرا تو نہیں
کیا یہ حقیقتوں کا نور ہے
آج کی یہ خوشی میں نے تیرے نام کی
یہ حکمت تیری نکلی کام کی
مجھے خوشی ہے کے تجھے خوشی ملی ہے
سماعتوں کو تیری جس کا انتظار تھا
جانتی ہوں وہ یہی اقرار تھا
حقیقت میٹھی ہوتی ہے
کیوں کی اس میں خدا کا جلوہ ہے
کیوں کی اس میں رب کی چاہت ہے
کیوں کی یہی حق ے محبّت ہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں